Washington Sundar: Delhi Pitch Challenge and India’s Spin Dominance | Cricket News

دہلی کی مشکل پچ پر 20 وکٹیں حاصل کرنا حوصلہ افزا ہے: واشنگٹن سندر

بھارتی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر واشنگٹن سندر (Washington Sundar) نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دہلی ٹیسٹ کے دوران پچ کی مشکل صورتحال پر کھل کر بات کی ہے۔ اگرچہ پچ سے گیند زیادہ ٹرن (Turn) نہیں ہو رہی تھی اور باؤنس (Bounce) بھی کم تھا، لیکن بھارتی بولرز نے ہمت نہیں ہاری اور طویل اسپیلز (Long Spells) کے بعد 20 وکٹیں مکمل کیں۔

تنوع اور چیلنجز: کرکٹ کی خوبصورتی

پریس کانفرنس کے دوران واشنگٹن سندر نے کہا: ‘مختلف مقامات پر پچز کا کردار بہت الگ ہوتا ہے۔ دہلی کی یہ پچ ایک روایتی وکٹ تھی جہاں زیادہ ٹرن نہیں تھا۔ ٹیسٹ کرکٹ (Test Cricket) کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ آپ کو ہر بار نئے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ ہوم گراؤنڈ ہو یا غیر ملکی سرزمین۔’

اسپنرز کی محنت رنگ لائی

بھارتی اسپن ٹریو (Spin Trio) یعنی کلدیپ یادو، رویندرا جڈیجہ اور واشنگٹن سندر نے میچ کے دوران تقریباً 143.5 اوورز کرائے۔ سندر نے کہا کہ اس طرح کی پچ پر صبر (Patience) کے ساتھ درست لائن اور لینتھ (Good Areas) پر گیند بازی کرنا اصل چیلنج تھا۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں جان کیمبل اور شائی ہوپ کی سنچری شراکت داری کی بھی تعریف کی جنہوں نے بہادری سے مقابلہ کیا۔

آل راؤنڈر ہونے کا اعزاز

ٹیم میں اپنی اہمیت پر بات کرتے ہوئے واشنگٹن سندر نے کہا کہ ایک آل راؤنڈر (All-rounder) ہونا کسی نعمت سے کم نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں جتنے زیادہ معیاری آل راؤنڈرز ہوں گے، ٹیم اتنی ہی مضبوط ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا: ‘جو ٹیمیں طویل عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ پر حاوی رہیں، ان کے پاس بہترین آل راؤنڈرز موجود تھے۔ ہماری ٹیم میں بھی شاندار آل راؤنڈرز کا ذخیرہ موجود ہے۔’

جیت کی دہلیز پر بھارت

میچ کے چوتھے دن کے اختتام پر بھارت کو جیت کے لیے صرف 58 رنز درکار ہیں۔ اگرچہ یشسوی جیسوال نے تیزی سے رنز بنانے کی کوشش کی، لیکن کے ایل راہول اور بی سائی سدرشن نے ٹیم کو سنبھالا دیا ہے۔ واشنگٹن سندر نے مسکراتے ہوئے کہا: ‘آپ سب بھی چاہتے ہوں گے کہ میچ آج ہی ختم ہو جائے، جیسوال نے پوری کوشش کی تھی!’

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *