کیا روہت شرما اور ویرات کوہلی 2027 ورلڈ کپ (2027 World Cup) کھیلیں گے؟
کرکٹ کی دنیا میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا لیجنڈری جوڑی روہت شرما (Rohit Sharma) اور ویرات کوہلی (Virat Kohli) دو سال بعد ہونے والے 50 اوور کے ورلڈ کپ کا حصہ ہوں گے؟ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر (Gautam Gambhir) نے اس بارے میں اہم بیان دیا ہے۔ گمبھیر کا کہنا ہے کہ ‘حال میں جینا بہت ضروری ہے’، اور ابھی سے اتنی دور کا سوچنا مناسب نہیں ہے۔
دونوں اسٹار کھلاڑی اب اپنی عمر کی تیسری دہائی کے وسط (mid-30s) میں ہیں اور ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی (T20I) سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔ آسٹریلیا کے دورے کے لیے ان کا انتخاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیم انڈیا ابھی بھی ان کے تجربے پر انحصار کر رہی ہے۔ گمبھیر کے مطابق، آسٹریلیا میں ان کا تجربہ ٹیم کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوگا۔
شبمن گل اور مینٹل کنڈیشننگ (Mental Conditioning)
ٹیم کے نئے کپتان شبمن گل (Shubman Gill) پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے، لیکن گوتم گمبھیر پرامید ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گل کو مینٹل کنڈیشننگ کوچ کی ضرورت ہے، تو گمبھیر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس کے لیے تیار ہیں۔ گمبھیر نے زور دیا کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اور ذہنی صحت (mental aspect) دونوں ہی ان کی ذمہ داری ہیں۔
ہرشیت رانا پر تنقید کو گمبھیر نے ‘شرمناک’ قرار دیا
آسٹریلیا کے دورے کے لیے نوجوان فاسٹ بولر ہرشیت رانا (Harshit Rana) کے انتخاب پر سابق کرکٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر گوتم گمبھیر سخت برہم نظر آئے۔ کرس شری کانت (Kris Srikkanth) نے الزام لگایا تھا کہ رانا کو صرف گمبھیر کا ‘یس مین’ ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل کیا گیا۔
گمبھیر نے اس تنقید کو ‘شرمناک’ قرار دیتے ہوئے کہا:
- ذاتی حملے: ‘کسی 23 سالہ نوجوان کو اپنے یوٹیوب چینل چلانے کے لیے نشانہ بنانا غیر منصفانہ ہے۔’
- میرٹ کی اہمیت: ‘رانا اپنی قابلیت (merit) پر کھیل رہا ہے، نہ کہ کسی کی سفارش پر۔’
- اخلاقی ذمہ داری: گمبھیر نے کہا کہ تنقید کارکردگی پر ہونی چاہیے، نہ کہ ذاتیات پر۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کھلاڑی کے پیچھے ایک انسان ہے، اور سوشل میڈیا کی یہ منفی مہم کسی نوجوان کھلاڑی کے ذہن پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
گمبھیر نے اختتام پر کہا کہ انڈین کرکٹ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے ملک کی امانت ہے، اور ہر کسی کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

Leave a Reply