پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: ویمنز ورلڈ کپ میں سبز ہلالی پرچم کے لیے کٹھن امتحان
آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ (ICC Women’s World Cup) کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان کی ٹیم ناقابلِ تسخیر آسٹریلیا کے مدمقابل ہوگی۔ پاکستان کے لیے یہ میچ محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ اپنی ساکھ بچانے کا ایک کٹھن امتحان ہے۔
کیا پاکستان تاریخ بدل سکے گا؟
پاکستان کی ویمنز ٹیم آج تک آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی فارمیٹ میں فتح حاصل نہیں کر سکی ہے۔ 16 ون ڈے میچوں (ODIs) میں شکست کا بوجھ لیے پاکستانی ٹیم کے لیے یہ پہاڑ سر کرنا واقعی ایک ناممکن مشن دکھائی دیتا ہے۔ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش اور بھارت سے شکست کے بعد، پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ میں واپسی کے راستے انتہائی تنگ ہو چکے ہیں۔
کولمبو کی پچ اور حالات
آر پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو کی پچ بلے بازوں کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔ پچھلے میچوں میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہاں گیند بلے پر آسانی سے نہیں آتی۔ پاکستان ٹیم، جس نے یہاں پہلے دو میچ کھیل لیے ہیں، اس کنڈیشنز (Conditions) سے بخوبی واقف ہے، جو شاید ان کے حق میں ایک مثبت پہلو ثابت ہو سکے۔
کھلاڑی جن پر نظریں ہوں گی
- نشرا سندھو (Nashra Sandhu): پاکستانی اسپن اٹیک کی ریڑھ کی ہڈی۔ ورلڈ کپ 2022 کے بعد سے نشرا نے 42 وکٹیں حاصل کر کے اپنی افادیت ثابت کی ہے۔ پاکستان کی کامیابی کا انحصار کافی حد تک ان کی جادوئی اسپن پر ہوگا۔
- بیتھ مونی (Beth Mooney): آسٹریلوی بیٹنگ لائن کی مضبوط کڑی۔ پاکستان کے خلاف ان کا ریکارڈ (اوسط 69.75) خوفناک ہے، اور وہ حالیہ فارم میں بھی بہترین بلے بازی کر رہی ہیں۔
ٹیموں کی ممکنہ پلیئنگ الیون (Probable Playing XI)
پاکستان: منیبہ علی، صدف شمس، سدرہ امین، عالیہ ریاض، نتالیہ پرویز، فاطمہ ثنا (کپتان)، رمین شمیم، ڈیانا بیگ، سدرہ نواز (وکٹ کیپر)، نشرا سندھو، سعدیہ اقبال۔
آسٹریلیا: ایلیسا ہیلی (کپتان و وکٹ کیپر)، فوبی لچ فیلڈ، ایلیس پیری، بیتھ مونی، اینابیل سدرلینڈ، ایشلے گارڈنر، ٹاہلیا میک گرا، سوفی مولینوکس، الانا کنگ، کم گارتھ، ڈارسی براؤن۔
میچ کا خلاصہ
آسٹریلیا کی ٹیم ایک ایسی مشین کی طرح ہے جو جیتنا جانتی ہے۔ ان کی گزشتہ 32 میچوں میں 27 فتوحات ان کی بالادستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لیکن کرکٹ کے میدان میں اپ سیٹ (Upset) کا عنصر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ کیا فاطمہ ثنا کی قیادت میں پاکستانی لڑکیاں کوئی کرشمہ دکھا سکیں گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن شائقین ایک بھرپور مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
Leave a Reply