Nic Maddinson Cancer Battle: Australian Cricketer Opens Up | Nic Maddinson Testicular Cancer

کرکٹ کی دنیا سے ایک جذباتی داستان: نک میڈنسن کی کینسر کے خلاف جنگ

آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز اور نیو ساؤتھ ویلز (New South Wales) کے سٹار کرکٹر نک میڈنسن (Nic Maddinson) نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور مشکل ترین اننگز کا انکشاف کیا ہے۔ 33 سالہ میڈنسن نے بتایا ہے کہ وہ کچھ عرصہ قبل ‘ٹیسٹیکولر کینسر’ (Testicular Cancer) جیسی مہلک بیماری کا شکار ہوئے تھے۔

ایک غیر متوقع حقیقت

مارچ کے اوائل میں جب نک میڈنسن نے خود کو کچھ نڈھال محسوس کیا تو انہیں لگا کہ شاید یہ کوئی عام وائرس ہے۔ تاہم، ٹیم ڈاکٹر جان آرچرڈ سے مشاورت کے بعد جب معائنہ کروایا گیا تو ایک گلٹی (Lump) کی تشخیص ہوئی۔ سرجری کے ذریعے اسے ہٹا دیا گیا، لیکن سات ہفتوں بعد آنے والی رپورٹس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا کیونکہ کینسر جسم کے دیگر حصوں جیسے لمف نوڈس (Lymph nodes) اور پھیپھڑوں تک پھیل چکا تھا۔

کی موتھراپی کا مشکل سفر

میڈنسن نے جذباتی انداز میں بتایا، “جب مجھے پتہ چلا کہ مجھے کیمو تھراپی (Chemotherapy) کروانی پڑے گی تو یہ میرے لیے بہت خوفناک تھا۔” اس دوران ان کی اہلیہ بیانکا، جو خود حاملہ تھیں، نے اپنے کام کو چھوڑ کر ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔ میڈنسن نے اپنے علاج کے تکلیف دہ دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر رات بھر جاگتے تھے اور جسمانی طور پر انتہائی کمزور ہو چکے تھے۔

کرکٹ کے میدان میں واپسی کا عزم

بالآخر 14 جولائی کو ان کی کیمو تھراپی مکمل ہوئی اور اگست میں انہیں یہ خوشخبری ملی کہ علاج کامیاب رہا ہے۔ اب وہ دوبارہ نیٹ پریکٹس کر رہے ہیں اور نومبر میں شیفیلڈ شیلڈ (Sheffield Shield) میں واپسی کے لیے پرامید ہیں۔

دوسروں کے لیے ایک پیغام

نک میڈنسن نے دوسرے لوگوں، خاص طور پر دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی صحت کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔ انہوں نے کہا:

  • بروقت تشخیص: اگر آپ کو جسم میں کوئی بھی غیر معمولی چیز محسوس ہو تو فوراً معائنہ کروائیں۔
  • ذہنی مضبوطی: کینسر کے خلاف لڑائی میں حوصلہ سب سے بڑی دوا ہے۔
  • آگاہی: “اگر میری کہانی پڑھ کر صرف ایک شخص بھی اپنا چیک اپ کروا لے، تو میں سمجھوں گا کہ میرا مقصد پورا ہو گیا۔”

ہم نک میڈنسن کی مکمل صحت یابی اور ان کے کرکٹ کیریئر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی ہمت اور عزم تمام کھلاڑیوں اور مداحوں کے لیے ایک مثال ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *