افغانستان کرکٹ ٹیم کا پاکستان ٹرائی سیریز سے دستبرداری کا افسوسناک فیصلہ
کرکٹ کی دنیا پر اس وقت غم کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ افغانستان کرکٹ بورڈ (ACB) نے پاکستان میں ہونے والی آئندہ سہ فریقی سیریز (Tri-Nation T20I Series) سے اپنی ٹیم کو دستبردار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پکتیکا صوبے کے ضلع ارگون میں ایک حالیہ حملے کے بعد کیا گیا، جس میں تین ابھرتے ہوئے مقامی کرکٹرز کی ہلاکت نے کرکٹ برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
واقعہ کیا تھا؟
اطلاعات کے مطابق، افغانستان کے تین نوجوان کرکٹرز—کبیر آغا، صبغت اللہ اور ہارون—شرانہ میں ایک دوستانہ میچ (Friendly Match) کھیل کر گھر واپس لوٹ رہے تھے جب وہ ایک فضائی حملے (Airstrike) کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گئے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس نقصان کو کرکٹ کے خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔
آئی سی سی اور بی سی سی آئی کا ردعمل
اس المناک صورتحال پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) اور بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) نے افغانستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ یکجہتی (Solidarity) کا اظہار کیا ہے۔ آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان تین ہونہار کھلاڑیوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور صدمے میں ہے اور اس تشدد کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بی سی سی آئی نے بھی اس واقعے کو ‘انتہائی تکلیف دہ’ قرار دیتے ہوئے افغان کرکٹ برادری سے تعزیت کی ہے۔
پاکستان کا موقف
دوسری جانب، پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے آئی سی سی کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ کرکٹرز کی ہلاکت کے بارے میں آئی سی سی کے پاس کوئی آزادانہ تصدیق (Independent Verification) موجود نہیں ہے اور پاکستان ان دعوؤں کی تردید کرتا ہے۔
سیریز کا مستقبل
یہ سہ فریقی سیریز، جس میں پاکستان، افغانستان اور سری لنکا شامل تھے، 17 نومبر سے 29 نومبر تک راولپنڈی اور لاہور میں شیڈول تھی۔ اب افغانستان کی جگہ زمبابوے کی ٹیم اس سیریز میں حصہ لے گی۔ یہ ٹورنامنٹ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں ایک اہم کرکٹ ایونٹ سمجھا جا رہا تھا۔
- سیریز کا نیا نام: ٹرائی نیشن ٹی 20 سیریز (Tri-Nation T20I Series)
- متبادل ٹیم: زمبابوے (Zimbabwe)
- مقام: راولپنڈی اور لاہور
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ہمیشہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کے اصول پر کاربند رہے ہیں، لیکن اس مشکل گھڑی میں اپنے کھلاڑیوں کے احترام میں یہ فیصلہ کرنا ناگزیر تھا۔

Leave a Reply