Daren Sammy on West Indies Cricket Crisis: We Deserve Financial Support | ویسٹ انڈیز کرکٹ

ویسٹ انڈیز کرکٹ کا بحران: ڈیرن سمی کا دو ٹوک مؤقف

ویسٹ انڈیز کرکٹ (West Indies Cricket) آج کل ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ مالی مشکلات، بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور عالمی کرکٹ کی بدلتی ہوئی معیشت نے ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حال ہی میں بھارت کے ہاتھوں اننگز کی شکست کے بعد، ہیڈ کوچ ڈیرن سمی (Daren Sammy) نے کرکٹ دنیا کے سامنے ایک اہم سوال اٹھایا ہے: کیا ویسٹ انڈیز کو اپنے شاندار ماضی کے صلے میں مالی امداد کا حق نہیں ہے؟

تاریخی ورثہ اور مالی ناانصافی

ڈیرن سمی کا ماننا ہے کہ 1970 سے 1990 کی دہائی تک جب ویسٹ انڈیز نے عالمی کرکٹ پر راج کیا، تو انہوں نے کھیل کو بے پناہ فروغ دیا۔ سمی کہتے ہیں، ‘ہم نے کھیل کو جو ورثہ دیا، اس کے بدلے ہمیں وہ مالی فوائد نہیں ملے جو آج کی بڑی ٹیمیں حاصل کر رہی ہیں۔’ سمی کے مطابق، ماضی میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا مالی طور پر فائدہ مند ہوتا تھا، لیکن اس وقت کے منافع کا بڑا حصہ ویسٹ انڈیز کو نہیں ملا۔

محنت اور نظم و ضبط کا فقدان

اگرچہ سمی مالی وسائل کی کمی کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن وہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اور محنت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا: ‘اگر ہمارے پاس بہترین سہولیات اور ٹیکنالوجی نہیں ہے، تو پھر مخالف ٹیمیں ہم سے زیادہ محنت کیوں کر رہی ہیں؟’ سمی کا ماننا ہے کہ کرکٹ میں کامیابی کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں، بلکہ درست ذہنیت (Mindset) اور سخت محنت ضروری ہے۔

کرکٹ کے مسائل: ‘کینسر’ جیسی گہری جڑیں

ڈیرن سمی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ کے مسائل کو ایک تشویشناک استعارہ دیتے ہوئے ‘کینسر’ سے تشبیہ دی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ مسائل صرف دو سال پرانے نہیں بلکہ دہائیوں پرانے ہیں۔ سمی کے الفاظ میں: ‘یہ مسئلہ ہماری سسٹم کی گہرائیوں میں جڑا ہوا ہے۔ اسے ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں طویل مدتی حکمت عملی اور سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔’

مستقبل کی امید

ڈیرن سمی اب بھی پرعزم ہیں کہ وہ کھلاڑیوں کی تربیت اور ان کے رویے میں تبدیلی لا کر ویسٹ انڈیز کرکٹ کو دوبارہ بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ایک ایسا ‘پروسیس’ (Process) بنانا ہے جو نتائج کی پرواہ کیے بغیر کھلاڑیوں کو مستقل مزاجی سکھائے۔

  • اہم چیلنج: ٹیسٹ کرکٹ میں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی۔
  • حل: محنت، نظم و ضبط اور پرپز فل پریکٹس (Purposeful Practice)۔
  • مقصد: اگلی نسل کے لیے نئے ہیروز پیدا کرنا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *