گوتھم گمبھیر کا مطالبہ: بھارتی پچز پر مزید باؤنس اور کیری (Bounce and Carry) کی ضرورت
بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتھم گمبھیر نے اپنے حالیہ بیان میں ہوم ٹیسٹ میچوں کے لیے ایسی پچز کا مطالبہ کیا ہے جن پر گیند میں مزید باؤنس (Bounce) اور کیری (Carry) ہو۔ یہ مطالبہ ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ سیریز کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں بھارتی بولرز کو وکٹیں حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑی۔
ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ رکھنے کے لیے بہترین پچز ناگزیر ہیں
گمبھیر کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ (Test Cricket) کے بقا کے لیے پچز کا معیار بہترین ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ‘مجھے لگتا ہے کہ ہمیں یہاں بہتر وکٹ مل سکتی تھی۔ اگرچہ ہم نے پانچویں دن نتیجہ حاصل کر لیا، لیکن وکٹ کیپر تک گیند کا کیری (Carry) پہنچنا ضروری ہے۔ تیز گیند بازوں (Fast Bowlers) کے لیے بھی پچ میں کچھ ہونا چاہیے۔’
شبمن گل کی کپتانی پر اعتماد کا اظہار
ہیڈ کوچ نے موجودہ کپتان شبمن گل (Shubman Gill) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ ذمہ داری کسی فیور کی بنیاد پر نہیں ملی بلکہ وہ اس کے حقدار ہیں۔ گمبھیر نے مزید کہا کہ، ‘وہ میدان پر سب سے پہلے پہنچنے والے کھلاڑی ہیں اور ان کی ورک ایتھکس (Work Ethics) اور ٹیم کو سنبھالنے کا انداز لاجواب ہے۔ انہوں نے انگلینڈ کے مشکل دورے میں خود کو ثابت کیا ہے۔’
ڈومیسٹک کرکٹ اور تیاری کی اہمیت
آنے والی جنوبی افریقہ کی سیریز کے حوالے سے گمبھیر نے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ وہ این سی اے (NCA – National Cricket Academy) میں محض پریکٹس کرنے کے بجائے ڈومیسٹک کرکٹ، خاص طور پر رنجی ٹرافی (Ranji Trophy) میں حصہ لیں تاکہ وہ ٹیسٹ میچوں کے لیے مکمل طور پر تیار رہ سکیں۔
- اہم نکات:
- پچز پر باؤنس اور کیری کا فقدان تشویشناک ہے۔
- ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
- کھلاڑیوں کی ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت انہیں پیشہ ورانہ طور پر تیار کرتی ہے۔
- شبمن گل کی قیادت نے ٹیم میں نیا جوش پیدا کیا ہے۔
گوتھم گمبھیر کا یہ بیانیہ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کرتا ہے، جہاں اب محض اسپن ٹریکس (Square Turners) کے بجائے ایک متوازن پچز کی طرف منتقلی پر زور دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply