پاکستان کی بیٹنگ لائن کا خوفناک کولیپس: اظہر محمود برس پڑے
پاکستان کے ہیڈ کوچ اظہر محمود (Head Coach) نے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران اپنی ٹیم کی ناقص شاٹ سلیکشن (Shot Selection) پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایک ایسی پوزیشن جہاں پاکستان مکمل طور پر حاوی تھا، وہاں صرف 45 منٹ کے اندر 6 وکٹیں گنوا کر میچ کو غیر ضروری طور پر مشکل بنا لیا گیا۔
تین دن کا کھیل اور پاکستان کی غفلت
تیسرے دن چائے کے وقفے تک پاکستان کی پوزیشن انتہائی مستحکم تھی۔ ٹیم 259 رنز کی برتری حاصل کر چکی تھی اور 6 وکٹیں ابھی باقی تھیں۔ تاہم، اگلی 45 منٹ میں پاکستانی بیٹرز نے پویلین لوٹنے کی ایسی جلدی دکھائی کہ صرف 17 رنز کے عوض 6 وکٹیں گر گئیں۔ اب جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 277 رنز کا ہدف ملا ہے، جو مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔
اظہر محمود کا ردعمل
اظہر محمود نے پریس کانفرنس میں کہا: ‘ہم نے خود کو اس صورتحال میں ڈالا ہے۔ ہم 4 وکٹوں پر 150 رنز پر تھے، پھر 17 رنز کے اندر 6 وکٹیں کھو دیں۔ اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہماری اپنی ناقص شاٹ سلیکشن اور غلط فیصلے ہیں۔’
وکٹوں کے گچھے (Wicket Clusters) کا تسلسل
پاکستان کی یہ پرانی بیماری ہے کہ وہ یکے بعد دیگرے وکٹیں گنواتے ہیں۔ پہلی اننگز میں بھی 199/2 کا سکور 199/5 ہو گیا تھا۔ اظہر محمود کے مطابق:
- بیٹرز کو 50 رنز کو 100 رنز (Converting 50s to 100s) میں بدلنا ہوگا۔
- عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نے 40 رنز بنائے، لیکن انہیں بڑی اننگز کھیلنی چاہیے تھی۔
- پچ کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے صبر (Patience) کے ساتھ بیٹنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سعود شکیل کی غیر ضروری شاٹ
ہیڈ کوچ خاص طور پر سعود شکیل کی وکٹ سے ناخوش دکھائی دیے۔ ‘آپ جانتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں سیشن کے اختتام پر وکٹ گنوانے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ سعود شکیل نے چائے کے وقفے سے بالکل پہلے غیر ضروری فضائی شاٹ (Lofted Shot) کھیلا، جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔’
میچ کا مستقبل
اگرچہ جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے مزید 226 رنز درکار ہیں، لیکن اظہر محمود کا ماننا ہے کہ پچ اب خراب (Deteriorating) ہو رہی ہے اور پاکستانی بولرز کے پاس اسے ڈیفینڈ کرنے کا بہترین موقع ہے۔ ‘ہم دوبارہ بیٹنگ نہیں کریں گے، اب ہماری تمام تر توجہ اس میچ کو جیتنے پر مرکوز ہے۔’

Leave a Reply