Mohammed Shami’s Fierce Comeback: ‘If I can play Ranji Trophy, I can play 50-overs’ | محمد شامی

محمد شامی کی دھواں دار واپسی: ‘اگر میں رانجی ٹرافی (Ranji Trophy) کھیل سکتا ہوں تو ون ڈے بھی کھیل سکتا ہوں’

کرکٹ کی دنیا کے برق رفتار گیند باز محمد شامی (Mohammed Shami) نے اپنی فٹنس پر اٹھنے والے تمام سوالات کو مسترد کرتے ہوئے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ بنگال کی جانب سے رانجی ٹرافی (Ranji Trophy) کے اپنے پہلے میچ سے قبل شامی نے صاف کر دیا ہے کہ اگر وہ چار روزہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں تو وہ 50 اوورز کے فارمیٹ (50-overs cricket) کے لیے بھی مکمل طور پر فٹ ہیں۔

سلیکشن میرے ہاتھ میں نہیں، میرا کام صرف کھیلنا ہے

آسٹریلیا کے دورے کے لیے ٹیم میں جگہ نہ ملنے پر شامی نے مایوسی کے بجائے پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔ انہوں نے کہا، ‘سلیکشن میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر مجھے فٹنس کا کوئی مسئلہ ہوتا تو میں آج یہاں بنگال کے لیے نہیں کھیل رہا ہوتا۔ میں کوئی تنازعہ کھڑا نہیں کرنا چاہتا، بس اتنا جانتا ہوں کہ جو کھلاڑی چار روزہ میچ کھیل سکتا ہے وہ یقیناً ون ڈے کرکٹ بھی کھیل سکتا ہے۔’

این سی اے (NCA) اور فٹنس اپڈیٹس پر دو ٹوک جواب

اپنی فٹنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شامی نے کہا کہ اپڈیٹس دینا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ‘میرا کام سینٹر آف ایکسیلنس (NCA – Centre of Excellence) جانا، خود کو تیار کرنا اور میچ کھیلنا ہے۔ کون کس کو اپڈیٹس دے رہا ہے، یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔’

ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت

35 سالہ شامی نے ڈومیسٹک کرکٹ (Domestic Cricket) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کچھ کھلاڑی رانجی ٹرافی کھیلنے کو ‘بے عزتی’ سمجھتے ہیں، لیکن وہ اس سوچ سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ:

  • ہر کھلاڑی کو چار روزہ کرکٹ کھیلنی چاہیے۔
  • ڈومیسٹک کرکٹ ہی اصل پلیٹ فارم ہے۔
  • لڑتے رہو اور میچ کھیلتے رہو، کارکردگی خود بولے گی۔

واپسی کے لیے پرعزم

شامی نے مزید کہا کہ وہ انجری کے بعد ایک مضبوط واپسی (Strong Comeback) کرنا چاہتے ہیں اور وہ درد میں کھیل کر ٹیم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ انہوں نے واضح کیا، ‘اگر سلیکٹرز مجھے منتخب نہیں کرتے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، میں بنگال کے لیے کھیلوں گا۔ لیکن جب بھی مجھے موقع ملے گا، میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہوں۔’

محمد شامی کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ ابھی بھی ہندوستانی کرکٹ ٹیم (Team India) کے لیے ایک اثاثہ ہیں اور اپنی فٹنس ثابت کرنے کے لیے کسی بھی سطح پر کھیلنے سے گریزاں نہیں ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *